2012/05/21 ميلادية
الاثنين 30/6/1433 هجرية    
مواضيع مترجمة فضل عشر ذی الحجة وأحكام الأضحية-عشر ذی الحجۃ کی فضیلت اور مسائل قربانی
lang_03 lang_05  lang_07  lang_09

. . .



فضل عشر ذی الحجة وأحكام الأضحية-عشر ذی الحجۃ کی فضیلت اور مسائل قربانی طباعة إرسال إلى صديق
مواضيع مترجمة
الكاتب شميم أحمد عبدالحليم مدنى   
الجمعة, 29 أكتوبر 2010 02:19
Share

Share

 

العنوان : فضل عشر ذی الحجة وأحكام الأضحية

اللغة : اردو
  
 عشر ذی الحجۃ کی فضیلت اور مسائل قربانی 


الحمد لله والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين ....... أما بعد :

 


 

قارئین کرام :اسمیں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی نے بعض مہینوں کوبعض پر اور بعض دنوں کو بعض پر فضیلت بخشی ہے تاکہ اس کے ذریعہ اللہ کے نیک وصالح بندوں کے اندر ان ایام ومہینوں میں مزید کار خیر میں سبقت کرنے کا جذبہ پیدا ہو جسے انجام دیکر آخرت کے لۓ زاد راہ اختیار کر سکیں ،چنانچہ انھیں دنوں میں سے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن بھی ہیں جن کی فضیلت اور دنوں سے کہیں زیادہ ہے اس لۓ ہر مومن ومومنہ کو چاہئے کہ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرکے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

 


 

ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت :

 


 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ (ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن) میں کۓ گۓ عمل صالح سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نے پوچھا اے اللہ کے رسول اللہ کے راہ میں جہاد بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد بھی نہیں سواۓ اس آدمی کے جو اپنی جان ومال سمیت نکل جاۓ اور کسی بھی چیز کے ساتھ واپس نہ لوثے(یعنی وہ شہید ہوجاۓ) {صحیح بخاری}

 


 

ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں محبوب وپسندیدہ اعمال :

1 / حج وعمرہ کی ادائیگی : یہ ان دنوں کا سب سے افضل عمل ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ ادا کرنا درمیان کی خطاؤں کے لۓ کفارہ ہے اور حج مبرور کا ثواب صرف اور صرف جنت ہے ۔

2 / ان دس دنوں یا ان میں سے جتنے دن ممکن ہو نفلی روزہ رکھنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوم عرفہ(9 ذی الحجہ )کا روزہ مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ اسکیوجہ سے اگلے اور پچھلے ایک سال کے گناہ معاف فرمادیگا۔ (صحیح مسلم )

نوٹ: واضح رہے کہ حاجی کا عرفہ کے دن روزہ رکھنا درست نہیں اور نہ ہی عید کے دن روزہ رکھنا جائز ہے ۔

3 / ان دس دنوں میں تکبیر (الله اكبر الله اكبر لا إله إلا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد)اور اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جاۓ ،امام بخاری رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر و ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں ذکر کرتے ہیں کہ وہ ان دس دنوں میں بازاروں میں نکل کر بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے جسے سن کر دوسرے لوگ بھی تکبیر پکارتے تھے ۔

4 / توبہ اور تمام قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں سے گلو خلاصی تاکہ اعمال پر رحمت و مغفرت مرتب ہو کیونکہ معاصی وگناہ غضب الہی کے اسباب میں سے ہیں اور اطاعت وبندگی محبت وقربت کے اسباب میں سے ہیں ۔

5 / زیادہ سے زیادہ نفلی نیک اعمال جیسے نفلی نماز،صدقہ ، تلاوت قرآن ، صلہ رحمی ،بھلائی کا حکم دینا ،برائی سے روکنا وغیرہ ۔

6 / 10 ذوالحجہ اور ایام تشریق (11، 12، 13 ،ذوالحجہ)میں قربانی کرنا مسنون ہے یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اللہ تعالی نے ان کے لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کے بطور عوض عطا کیا ۔

7 /ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کرنے والا شخص اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے (صحیح مسلم )

8 / ہر مومن کو چاہیۓ کہ وہ نمازعید جہاں پڑھی جاۓ وہاں ادا کرے نیزامام کے خطبہ کو سنے ،عید کی مشروعیت کو سمجھتے ہوۓ اللہ کا شکر بجالاۓ قربانی کےاحکام ومسائل :

قربانی سے مراد وہ جانور ہے جو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لۓ یوم النحر (عید کے دن) کو ذبح کیا جاتا ہے

 


 

۔قربانی کی فضیلت :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوم النحر (قربانی کے دن)کو ابن آدم خون بہانے سے بہتر کوئی عمل نہیں کرتا یہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں،کھروں،بالوں سمیت آئیں گے اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں اسکا ایک مقام ہوتا ہے سوتم یہ قربانی خوشدلی سے کرو۔(سنن ترمذی)

صحابہ کرام نے سوال کیا کہ اس قربانی کا مقصد کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ،پھر سوال کیا کہ اس سے ہمیں کیا ملیگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملیگی،کہنے لگے اور اون کے بدلے بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھیڑ کے ہر اون کے بدلے بھی ایک نیکی ملیگی {سنن ترمذی }

 


 

شرائط قربانی :

1 / قربانی ان جانوروں کی کیجاۓ جسکو شرع نے متعین کیا ہو جیسے اونٹ،گاۓ،بھیڑ،بکرا۔

2 / جس جانور کی قربانی کیجارہی ہو قربانی کرنے والا اسکا مالک ہو ۔

3 / قربانی کے جانور میں مندرجہ ذیل عیب نہ پاۓ جائیں۔

{ا}اندھا جسکا اندھا پن ظاہر ہو {ب}لنگڑا جسکا لنگڑاپن ظاہر ہو {ج}بیمار جسکی بیماری ظاہر ہو۔ {د}کمزور جسکی کمزوری ظاہر ہو

 


 

مکروہات قربانی :

اگر جانور میں مندرجہ ذیل عیوب پاۓ جائیں تو ان کی قربانی جائز ہے مگر مکروہ ہوگی ۔

1-جانورکے کان کا کٹا ہونا ،دم کا کٹا ہونا،سینگ کا ٹوٹا ہونا ۔

 


 

جانور کی کفایت کرنے والی عمر :

بھیڑکا 6 ماہ کا ہونا ،گاۓ ،اونٹ،بکرے کا دانتاہونا

 


 

قربانی کا وقت :

نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد سے لیکر13 ذی الحجہ کو سورج ڈوبنے تک قربانی کا وقت ہے ۔

 


 

قربانی کرتے وقت مندرجہ ذیل امور کی رعایت کی جاۓ :

1 /قربانی کے جانور کو قبلہ رخ کرکے ذبح کیا جاۓ

2/ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہا جاۓ اور مستحب ہے کہ اللہ اکبر بھی ساتھمیں کہا جاۓ ۔

3 / جانور کو دھاردار چھری سے ذبح کیا جاۓ۔

4 / جانور کے شھ رگ کو کاٹ کر خون بہایا جاۓ ۔

 


 

مندرجہ ذیل بدعات سے پرہیز ضروری :

1 / قربانی کے جانور کو ذبح کرنے سے پہلے نہلانا یا وضو کرانا ۔ 2 /قربانی کرتے وقت گھر کے تمام اقرادکا اس جانور کے اوپر ہاتھ پھیرنا ۔ 3 / آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے قربانی کرنا۔ 4 / قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنا ۔5 / قربانی کے گوشت پر فاتحہ دلانا 6/ قربانی کے جانور کے جسم پر کلمہ لا الہ الا اللہ لکہنا۔


     إعداد :


     شميم أحمد عبدالحليم مدنى
       
المكتب التعاوني للدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات ببني مالك - الطائف

  

لتحميل الملف أنقر هناDownload

آخر تحديث: الأربعاء, 10 نوفمبر 2010 01:06
 
لافتة إعلانية
لافتة إعلانية
لافتة إعلانية


حب الإسلام يجمعنا
JoomlaWatch Stats 1.2.9 by Matej Koval