قبروں کی زیارت:اقسام واحکام


قبروں کی زیارت:اقسام واحکام

پہلی قسم:

انسان مردوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کا سوال کرے ، خاص طور سے زندوں میں سے ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرے جنھوں نے مردوں کی زیارت کی۔ مردوں کے احوال سے اور جس انجام کو وہ پہنچے ہیں ان سے عبرت حاصل کرے، ایسی صورت میں اس کے لیے قبر کی زیارت باعث عبرت ونصیحت ہوگی تو یہ شرعی زیارت ہے، جو جائز ہے۔

 

دوسری قسم:

قبروں کے پاس یا کسی خاص قبر کے پاس اپنے لیے یا جس کسی شخص کے لیے چاہے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، یہ اعتقاد رکھتے ہوئے کہ جو دعا قبرستان میں یا کسی خاص انسان کی قبر کے پاس کی جاتی ہے بہ نسبت مساجد کے افضل وبہتر ہے۔ بلکہ اس دعا کے قبول ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ تو یہ ایک منکر وبدعت ہے۔

 

تیسری قسم:

اللہ تعالیٰ سے ان کے مقام ومرتبے کا وسیلہ دیتے ہوئے دعا کرے۔ مثلاً یہ کہے کہ اے میرے پروردگار! مجھے اس صاحب قبر کے جاہ ومقام کے واسطے سے یہ یہ چیز عطا کردے۔ یا یہ کہے کہ اس صاحب قبر کا جو حق تیرے اوپر ہے یا اس کا جو مقام ومرتبہ تیرے پاس ہے اس جیسی عبارت کا استعمال کرتے ہوئے دعا کرے تو یہ ایسی بدعت ہے جو شرک تک پہنچانے کا وسیلہ ہے۔

 

چوتھی قسم:

وہ اللہ کو نہ پکارے بلکہ صاحب قبر کو پکارے۔ مثلاً کہے: اے اللہ کے ولی! اے اللہ کے نبی! اے میرے آقا! میری مدد فرمائیے یا مجھے یہ یہ چیز عطا کیجیے۔ یا اس جیسی دعا مانگے تو یہ شرک اکبر ہے۔