پيغمراسلام صلی اللہ علیہ وسلم كے چند اہم کارنامے اور خصائص وخوبياں


سورہ توبہ میں رسول اكرمﷺ کےبارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشادفرماتے هيں: لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم(128)

آیت کریمہ میں[من انفسکم]کے الفاظ هيں: من انفسکم (تمہي میں سے) یہ کلمات دراصل تمام نسل انسانی اور نبیﷺ کے درمیان گہرے تعلق کو بیان کررہے ہیں۔ گویا آپ صلي الله عليه وسلم ان کا ایک جزء وحصہ ہیں ۔ آپ کا انسانی نسل سے جو تعلق ہے وہ ایسےھی ہے جیسےایک نفس کادوسرےنفس سےتعلق ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ کی رسالت تمام جھان والوں کے لیے باعث رحمت ہے۔ اللہ تعالی نےسورہ انبیاء میں ارشاد فرمایا:

واما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (156)

 

ایک اور آیت میں غور کیجیے اور دیکھئے کہ پوری انسانیت کی ہدایت کے لئےآپ کس قدر حریص تھے، ان پر شفقت ورحمت کا انداز کیساتھا۔ سورہ کہف میں اللہ نے ارشاد فرمایاـ:

فلعلک باخع نفسک علیٰ آثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث أسفا(6)

 

[باخع] کا معنی ہے حزن وغم سے خود کو ہلاک کرنے والا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ پوری زندگی انتہائی شفقت ومحبت اور اخلاص سے دعوت دین دیتے رہے۔ رسول اکرمﷺ اپنی دعوتی سرگرمیوں کی خودهي تصویرکشی کرتےھوئےفرماتے ہیں:

انما مثلی ومثل الناس کمثل رجل استوقد نارا فلما اضاء ت ماحولہ، جعل الفراش وھذہ الدواب التی تقع فی النار یقعن فیھا، فجعل ینزعھن ویغلبنہ، فیقتحمن فیھا، فانا آخذ بحجزکم عن النار وھم یقتحمون فیھا  (رواہ البخاری)

 

اس حدیث میں رسول اکرمﷺ نے لوگوں کو پروانوں اورکیڑےمکوڑوں سے تشبیہ دی ہے۔ پروانے جب روشنی اور آگ دیکھتے ہیں توآگ کیطرف اڑنے لگتے ہیں اور آگ میں گر کر جل جاتے ہیں۔یہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےاپکواس آدمی سے تشبیہ دی ہے جو پروانوں اورکیڑےمکوڑں کو آگ سے روک رہا ہوتا کہ وہ آگ میں نہ گرجائیں۔ اللہ کے رسولﷺ نےواقعتاایسا ہی کیا۔ عربی میں[حجز]اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں لنگی یا پائجامہ باندھا جاتا ہے۔ یہ ایسی جگہ ہے جہاں سےپکڑ بہت مضبوط ھوتی ہے۔ رسول ﷺ فرماتے ہیں:

’’فانا آخذ بحجزکم عن النار‘‘

تمہاری لنگی یاپائجامہ باندھنےکی جگہ کو پکڑ کرتمھیں جہنم سےبچا رہا ہوں۔

 

یعنی رسول اکرمﷺ لوگوں کو ہر اس چیز سے دور رکھنے کی کوشش فرماتے  تھےجوانھیں دنیا وآخرت میں نقصان پہنچاسکتی ہو لیکن اکثر کا حال یہ ہے کہ وہ زبردستی برائی میں واقع ھوتےہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ رسولﷺ امت کی نجات کےبارےمیں شدید حرص اور رحمت وشفقت کےوصف سے متصف تھے تاکہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں اور جہنم سے محفوظ رہیں۔ الغرض آپ کی پوری زندگی ایسےعظیم کارناموں سے بھری ہوئی جو کارنامے آپ کی نبوت کی سچائ کےگواہ ہیں اور اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ آپ واقعی اولاد آدم کے سردار ہیں۔

آپ کے چند اہم کارنامے درج ذیل ہیں:

)۱)توحید کی دعوت:

آپ کا سب سے بڑا کارنامہ دعوت توحید ہے؛دراصل توحیدھی انسان کی زندگی کااصل مقصداور اصل کامیابی وکامرانی کاسبب ہے۔ پس ایک وہ آدمی جو دوسرےمعبودوں کوچھوڑکرصرف ایک اللہ کو رب تسلیم کرتا ہے۔ اسی اکیلے رب کا دین اختیار کرتا؛اسی کی شریعت اوراسی کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کرتا ہے، اسی کے اوامر ونواہی کاپابندرھتاہے۔ تو ایسا آدمی ایک پرسکون زندگی کا لطف اٹھاتا ہے کیونکہ اس نےاکیلےرب کےسامنےجھک کر  توحید کی حقیقت کوپھچان لیاہے سو اس کالازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ یقین ومعرفت اورثابت قدمی کی لذتوں سے شرف یاب ہو،فکروقوت کویکجاکرکےروشن شاھراہ پہ گامزن رھے، اللہ واحدوقہار کے سوا کسی اورکےسامنےسر نہ جھکائے۔ اس کے برعکس غیراللہ کے سامنے جھکنے والا حیران وپریشان اورذہنی عذاب کا شکاررھتا ہے، اس کے دل کی کیفیت کسی حال پر برقرار نہیں رہتی بلکہ ہروقت تبدیل ہوتی رہتی ہے، اپنے باطل معبودوں میں سے کسی ایک پر بھی خوش نھیں رھتاچہ جائیکہ وہ تمام معبودوں سے خوش رہ سکے۔

رسول اکرمﷺ کا اہم امتیاز اور خصوصیت:

پیارے رسولﷺ کی خاص بات یہ ہے کہ آپ جوقرآن لے کر آئے وہ ایک باقی رہنے والا معجزہ ہےان شاءالله۔ رسول اکرمﷺ کے معجزات میں سےیہی وہ تنہا معجزہ ہے جو ختم نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اورجنوں کو چیلنج کیا کہ وہ اس قران مجید جیسا قرآن بناسکتے ہیں تولائیں جوواضح اور روشن دلائل کے ساتھ حق کوبیان کرےجیساکہ اس قرآن کےمیں ہے مثلاً ایمان بالغیب۔ اورپھراسےقوی دلائل سے ثابت کریں۔ اسی طرح قرآن پاک میں جوفصاحت وبلاغت،تاثیراور علوم کثیر موجود ہیں قرآن کے مقابلے میں لاکر دکھائیں۔

آپﷺ کا ایک اورعظیم ترین کارنامہ:

آپﷺ کا ایک خصوصی کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ نے اس دین کی دعوت وتبلیغ کاکام جس کاحکم اللہ جل شانہ نے آپ کودیا تھاایسےشانداراندازمیں مکمل فرمایاکہ اس میں آپ نے ذرابرابربھی کوتاہی برداشت نہ کی؛ چنانچہ جو دین آپ لےکرائےتھےاس کی حفاظت اللہ نے آپ ﷺ کے صحابہ کے ذریعے فرمائ۔ مسلمان آج بھی اس دین کی باریک ترین تفصیلات سے آگاہی حاصل کررہے ہیں اور رسولﷺ کی زندگی کے متعلق تواس حد تک معرفت رکھتےھیں کہ رسول اکرمﷺ کی شخصیت کس طرح کی تھی۔ بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ کی داڑھی میں سفید بال کتنےتھے۔ اپکی شکل وصورت، آپ کا قدمبارک،اپکےجسم اورکپڑوں کی رنگت، آپ سرپر کیا پہنتےاورباندھتے تھے ؛گھر میں کیسے داخل ہوتے تھے یھاں تک کہ بیویوں کے ساتھ آپ کا تعامل کیسا تھا گھر سے باہر آپ کےمعاملات کیسےتھے، مسجد میں آپ کیا کچھ کرتےتھے، بازار میں، جنگ وجدال اورامن وسلامتی میں آپ کے معاملات کی نوعیت وکیفیت کیا تھی۔

اور اس طرح کی تمام تفصیلات ایسےشواھدودلائل پہ مبنی ھیں کہ جن میں ذرہ برابربھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔

آپﷺ کے برعکس دیگرانبیاکا معاملہ کچھ مختلف ہے، لوگوں نے ان کی سیرت اورزندگی کی تفصیلات کو بھلادیاھے،چندایک معلومات یاد ہیں اور وہ بھی ظن وگمان پر مبنی ہیں قطعی ویقینی نہیں ہیں بلکہ ان میں بعض باتیں توایسی جھوٹی اورمن گھڑت ہیں کہ جو انبیاء کےشایان شان ھی نھیں بلکہ انکی قدرومنزلت کےبھی خلاف ھیں!مثلاً انبیاء کوخواھش نفس کاپیروکارقرار دینا، ان سے شراب کی نسبت جوڑنا وغیرہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے ایک عام شریف النفس انسان بھی بچنےکی کوشش کرتاہے کجا یہ کہ یہ باتیں اللہ کےپسندیدہ اورمبعوث کردہ کسی نبی کے بارے میں کہی جائیں ۔یقینا یہ شرارت وخباثت یہودیوں کی ھی ہے جنھوں نے یہ عیوب ونقائص دنیاکی مقدس ترین ھستیوں [انبیاکرام]کےساتھ لگانےکی کوشش کی تاکہ دنیاکےسامنےانکےپاکیزہ وصاف دامن کوداغدارکیاجائےلیکن رسولﷺ کی شخصیت وسیرت ابھی تک واضح اور صاف شفاف ہے۔

نبی اکرمﷺ کے دیگر کارنامے:

(۱)نبی پاکﷺ نے اس دین کو کفایت کرنےوالی محفوظ ترین صورت میں تمام انسانوں تک پہنچادیاھے۔ آپ کی رسالت کسی خاص قوم، خاص زمین، خاص نسل اور خاص زمانے کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ قیامت تک انےوالی تمام انسانیت  کے لیے ہے۔

(۲)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےدین اسلام پہ ایمان لانےوالی قوم کوایک امت بنادیا۔رنگ ونسل کوئی بھی؛کالا گورا؛عربی حبشی اورفارسی سب کے سب آپس میں اخوت کےرشتےمیں جڑےھوئےمحبت کرنے والے بھائی بن گئے،ایک دوسرے کےمساعدومددگاربن گئے۔ اس امت کا مالداروغنی غریب ومحتاج پر صدقہ کرتا ہے، سب آپس میں ایک دوسرے کی کفالت کرتے ہیں۔ مشہور برطانوی مؤرخ Arnoldtoynbeeاپنی کتاب ’’سویلائزیشن آن ٹرائل ‘‘ (Civilization on Trail)میں مغربی ثقافت کےزوال پذیرھونےکےاسباب ذکرکرتےھوئےلکھتاہے: قدیم انسانی تہذیب اورآج کی مغربی ثقافت کے زوال وانہدام کا سبب جنگ اور طبقاتی نظام ہے۔ مغربی مؤرخین کےہاں یہ تمام ثقافتیں اورتہذیبیں بغیر کسی استثناء کے یا تو طبقاتی نظام کی وجہ شکست وریخت سے دوچار ہوئی ہیں یا صرف جنگ کے وجہ یا پھر دونوں[جنگ اورطبقاتی نظام] کی وجہ سےزوال پذیرھوئ ھیں پھر اس کے بعد کہتا ہے:اسلام کےوضع کردہ اصولوں کےمطابق بننےوالےاسلامی معاشرےمیں طبقاتی نظام نہ ھوناھی اسلامی معاشرےکواخلاقی بلندیوں تک پہچانےکاسبب تھاموجودہ دورمیں اسلام کےوضع کردہ اس اصول سے فائدہ اٹھانے کی سخت ضرورت ہے۔ یہی وہ امت محمدیہ ہے جس کےلیے اسلام نے ایک شاندارحکومتی سسٹم قائم کیااوراسی سسٹم کےذریعےاسلامی حکومت دین کے شعار کو بلندکرتی  اور اس کی طرف دعوت دیتی ھے۔اور ان ممالک سے قتال کرتی ھےجولوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتےھیں یہاں تک کہ لوگ اسلام قبول کرنے اور نہ کرنے کے مسئلے میں مکمل آزاد ہوجائیں۔اور جن لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول نہ کی تواسلامی حکومت ان سےایک خاص مقدار میں مال کامطالبہ کرتی ھےجس کےذریعےاسلامی حکومت ان کی حفاظت وحمایت کرنےاورذریعہ معاش کواپنانےسےمعذوراجانےکیصورت میں انکی کفالت کرنےکی ذمہ دارھوگی ۔

 

انسانی تاریخ میں اسلام کا ظہورایک حیرت انگیزاورانوکھاانقلاب تھا اور یہ اسلامی انقلاب جونبی کے ہاتھوں عربوں کے دلوں میں اورپھر ان عرب کے ذریعے انسانی معاشرےمیں بپاھوا۔انسانی تاریخ کاواقعتاحیرت انگیزاورانوکھاانقلاب تھابلکہ یہ انقلاب توہر حوالے سے ھی حیرت انگیز ہے، حیرت انگیز ہےتیزی کےساتھ پھیلنے،عمیق وگہراھونے،وسیع وعریض اورعالم گیرھونے،عام فھم اورواضح ھونے؛غموض وخفااورپیچیدگیوں سےپاک ھونےمیں ؛الغرض ھرزاویےاورناحیےسےانوکھااورحیرت انگیزانقلاب تھا۔مشھورمؤرخ ڈاکٹر مائیکل ہارٹ اپنی کتاب ’’سوعظیم شخصیات‘‘کےصفحہ۱۹پرلکھتا ہے:میں[مائیکل ھارٹ کا]تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں محمد(ﷺ) کا انتخاب سب سے پہلے نمبرپہ کرناشاید یہ بات بہت سارے قارئین کو اس حد تک حیرانگی میں ڈال دے کہ وہ سوال کرنےپہ ہوجائیں۔

لیکن میرے خیال میں محمد تاریخ میں وہ تنہا شخص ہیں جو دین ودنیا ہر سطح پر انتہائی اعلیٰ معیار پر کامیاب ہوئے؛دنیا میں ایک عظیم ترین مذہب پھیلایااور دنیا کے عظیم ترین سیاست داں بنےآج جب کہ ان کی وفات کوتقریباً تیرہ صدیاں گزرچکی ہیں مگراب بھی ان کے اثرات نمایاں طور پر موجود ہیں۔

(۳)آپﷺ نے ایک ایسی امت تیار کی جواپنے اخلاق وکردار میں اورپراثر زندگی گزارنےکےاعتبارسےعظیم ترین امت ھے۔آپ نے اس امت کوقرآنی غذائوں سے پالا پوسااورایمان کےذریعےاسکی پرورش فرمائی ھےچنانچہ پوری امت جھکنےوالےدل؛پاکیزہ اورعاجزی اختیارکرنےوالےجسم اوربیدارعقل کےساتھ دن میں پانچ دفعہ اللہ رب العالمین کے سامنے سربسجودھوتی ھے۔دن بدن ان کی روحانی بلندی،دل کی پاکیزگی ؛اخلاق وآداب  کی درستگی اورخواہش نفس کوکچلنے؛مادہ پرستی کےبت سےٹکرانےکاشوق اوررب ارض وسماکےسامنےجکھنےکاجذبہ بڑھتارھتاھے۔                            [۴]آپﷺ نے اسلام کے ذریعے پورے عرب کوایک کمزور امت سےمضبوط ترین امت میں تبدیل کردیا۔ یہ امت ایک بلندتر پیغام اسلام اٹھانےوالی امت بنی۔بلکہ ایک ایسی امت وجود میں ائی جس نے ظلم کو مٹایا اور عدل وانصاف کو پھیلایا۔ کمزوروں کے خوف کو امن میں بدلا۔ اس امت نے اپنے افرادکی طاقت وقوت کو انسانیت کی قیادت میں صرف کیا تاکہ امن وایمان کی فضاقائم ہوجائے۔

 

(۵)آپﷺ نےانسانی زندگی میں موجودھرقسم کے بگاڑاورخرابی وفسادکا خاتمہ کیا۔ بگاڑمعاشرتی ہو دینی ہو یا اقتصادی کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر لوگوں کے لیے ایک معتدل میزان وترازوقائم کیا جس کی طرف تمام لوگ رجوع کرسکیں۔ یہ میزان درحقیقت اللہ کی طرف سے نازل شدہ قرآن اور پیارے نبیﷺ کی سنتیں ہیں جو انتہائی درجے کے اہتمام کےبعدہم تک پہنچی ہیں۔ اسی پختہ ومضبوط معتدل میزان کی وجہ سے اللہ کیطرف سےنازل کردہ شریعت دھوکہ دھی، ظلم وزیادتی؛فخروغرور، جھوٹ، فحش گوئى اور قطع رحمی جیسے معاملات سے رکنےکاحکم دیتی ھے۔یہی وجہ ھےکہ اسلامی شریعت انسانی زندگی کےنہ تبدیل ھونےوالےاصول وضوابط پرمشتمل ھےاوریہ شریعت ہراس نئی حاجت وضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہےجن حاجات کوانسانوں کےخالق کےعلاوہ اورکوئ نھیں جانتااور خالق اپنے مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہےکیونکہ وہ خبررکھنےوالاباریک بین رب ھے۔

(۶)رسول اکرمﷺ ایک ایسی ربانی شریعت لے کر آئے جس میں انسان کی طاقت اور وسعت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ جو بھی احکام اسلامی شریعت میں وارد ہوئےفی الواقع انسان کے اندر انھیں ادا کرنے کی پوری استعداد موجود ہےبلکہ بعض دفعہ انسان کو اگر عمل کی راہ میں کچھ مصائب وآلام آجائیں تو انھیں بھی برداشت کرلیتا ہے کیونکہ شریعت انسان کی وسعت وطاقت کامکمل خیال رکھتی ہے۔

(۷)آپﷺ کی لائی ہوئی شریعت نے عدالتی نظام میں مساوات وبرابری کی ایسی بنیاد قائم کی جس میں کسی کو کوئی فوقیت وبرتری نہیں ہے۔ لوگوں کو طبقات گروہ میں تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ شریعت اسلامی کے احکام کے سامنے سبھی لوگ برابر ہیں یعنی خالص عدل اسلام کی اہم ترین خوبی اور اہم ترین امتیاز ہے۔

چنانچہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’’تم سے پہلےلوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کے اندر کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد لگاتے۔ اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد(رضی اللہ عنہا) بھی چوری کربیٹھے تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔ (بخاری ومسلم)

(۸)آپﷺ کی خاص خوبی یہ بھی ہے کہ آپ نے جو منہج پیش کیا وہ منہج ربانی اورایک معتدل اورسلجھاھوامنہج ہے۔ روحانی بلندیوں کے حصول کے لیےنہ جسم کو عذاب میں مبتلاکیا جاتاھےاورنہ ھی روحانی پہلؤوں کو نظراندازکیا جاتاھے کہ سب کچھ جسم کےحوالےکردیاجائےجیسےچاھےلطف اندوزھو۔ اس منہج میں انسان کی انفرادی قوتوں اور اس کی فطرت سلیمہ کی چاہتوں کوجوکہ جماعتوں اورحکومتوں کی مصلحتوں کی آبیاری کاکام کریں روکاجاتاھےاورنہ ہی کسی فرد کی منحرف طبیعت اور اس کی ناجائز خواہشات کو آزادچھوڑاجاتا ھےکہ جس سے معاشرے کی زندگی عذاب بن جائے۔

(۹)آپﷺ نے انسانیت کیلئےترقی کےتمام دروازں کوکھول دیاھے۔تاکہ انسانیت اپنےدنیاوی أمور[ٹیکنالوجی؛کیمیا؛فیزیا؛کھیتی باڑی؛صنعت وحرفت اوردوسرےدنیاوی علوم میں ]ترقی کرسکےبلکہ آپ نےتویہاں تک فرمایا: اللہ ایسے آدمی سے محبت کرتا ہے جو اپنا کام خوب اچھےطریقےسے انجام دیتا ہے۔اسلامی شریعت کی عمدگی کامعاملہ صرف یہی تک ہی محدودنہیں بلکہ شریعت تودنیاوی علوم میں اختراع وایجادپہ بھی ابھارتی ھےبس صرف اتناھےکہ اپنی آخرت کونہ بھولیں کیونکہ آخرت ہی اصل ہے اور دنیا کی زندگی توختم ہونے والی ہے۔اوردنیاکی زندگی اخرت کےمقابلےمیں تھوڑےسےسامان کی حیثیت رکھتی ھے۔

 

ان تمام امور کے باوجود آپﷺ نے کسی بھی عمل کے بارے میں کبھی اپنےاپ کوبڑھاچڑھاکرپیش نھیں فرمایا بلکہ اگر کوئی آپﷺ کی تعریف میں مبالغہ کرتا تو اس کو تنبیہ فرماتے۔ ایک دفعہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اللہ نے اور آپ نے چاہا(ماشاء اللہ وماشئت) تو آپ ﷺنے فرمایا:تو نے مجھے اللہ کا شریک بنادیا؟ اگر کہنا ہی ہے تو یوں کہو: اللہ نے چاہا پھر آپ نے چاہا(ماشاء اللہ ثم شئت) ۔ ایک مقام پر آپﷺ نے یوں فرمایا: ’’تم لوگ مجھے اس طرح نہ بڑھادینا جس طرح نصاریٰ نے عیسی بن مریم کو بڑھادیا۔ میں ایک بندہ ہوں ، مجھے اللہ کا بندہ اوراسکا رسول کہو۔‘‘

 

اس طرح کی اوراسکےعلاوہ بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جو آپ کے زہد وتواضع اورعجزوانکساری پردلالت کرتی ہیں کہ آپ کس طرح تکبر اور بڑائی سے دور رہا کرتے تھے۔ آپ ﷺ گذشتہ انبیاءکا بھی پورا پورا لحاظ رکھا کرتے تھے چنانچہ ایک بار آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: یہ مناسب بات نہیں ہے کہ تم لوگ مجھے یونس بن متی سے بہترسمجھو۔ آپ کو معلوم ہے کہ یونس علیہ السلام ایک نبی تھے اور انبیاء کو آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہے لیکن آپ نےفرمایاکہ ایسی تعریف جو دوسرے کے مرتبے کو نیچا ظاہر کرے درست نہیں ہے کیونکہ انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت ضرور ہے مگر اس کے اندر کوئی برائی نہیں ہے۔