قرآن اللہ کا کلام ہے


قرآن اللہ کا کلام ہے

 

مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اپنی بڑی اور پیہم جدوجہد کے باوجودقرآن کی مکمل وصف بیان کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی میں اسکا ایک بڑا اثر پاتے ہیں اور وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ قرآن کی یہ خوبی ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر جگہ کے لۓ صالح اور درست ہے ۔

کون سی وہ چیز ہے جو مسلمانوں کو اس بات (پر ابھارتی ہے )کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ؟

 

وہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم اور دائمی معجزہ ہے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے تو کیسے وہ ایسی کتاب کے ساتھ آسکتے ہے جونہایت ہی عظیم اور سراپا معجزہ ہے ۔

بلا شبہ قرآن کو پڑھنے والا  اس کے مواضیع اور عناوین کے تنوع سےحیران ہوجاتا ہے ۔

 

کہ کس بہتر طریقے سے مختلف قصوں اور کہانیوں کو پیش کیا ہے ،اور اس کائنات کی بہتر وصف جسمیں آسمان ہیں اور وہ مدار جو اسمیں جاری ہوتے ہیں زمین اورجومخلوقات اسپر چلتی ہیں اور جو مخلوقات سمندر کی تہ میں زندگی گزارتی ہیں اور جو اس کائنات کی فضاء میں پرواز کرتی ہیں ۔

اور کس باریک بینی سے انسان کے جسم کی وصف ،پرورش کے مراحل ،پوری زندگي کو بیان کیا ہے (انھیں دیکھکر ) حیران ہوجاتا ہے ۔

نیز اس قرآن نے کس دقت اور باریکی سے انسانی نفس کی وصف بیان کی ہے مزید تعجب میں پڑجاتا ہے ۔

یہ مختلف وجوہات ہیں قرآن کریم کے معجزہ ہونے پرجو خوبی صرف اور صرف قرآن کو حاصل ہے ۔

تو کیا کسی عربی انسان کے لۓ چاہے وہ کتنا ہی ذہین ،فصیح وبلیغ ہو اور چاہے کتنا ہی اسکی طاقت وقدرت ہو ممکن ہے یہ قرآن لے آسکے ۔

کیا کسی عربی انسان کے لۓ ممکن ہے کہ جو ریگستانی ماحول میں زندگی گذار رہا ہو ،پہاڑوں کے درمیان بکریوں کو چرارہاہو،مکہ میں مقیم ہو وہاں سے باہر نہ نکلا ہو ،کبھی سفر بھی نہ کیا ہو سواۓ دو بار ملک شام کی طرف ،ایک مرتبہ بلوغت سے پہلے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ اور ان سے جدا نہیں ہوتے تھے ،دوسری مرتبہ میسرہ کے ساتھ تجارتی سفر کیا چند ایسے ساتھیوں کے ساتھ جو آپ کے تمام احوال سے واقف تھے اسوقت آپ کی عمر 20 سال سے کچھ زیادہ تھی ،اور کبھی بھی آپ کسی عالم کے ساتھ ملے بھی نہیں نہ تو یہودی عالم کے پاس اور نہ نصرانی عالم کے پاس  کہ اس سے کچھ تعلیم حاصل کی ہو اور نہ ہی بحیری یا اسکے علاوہ کسی اور کے پاس بھی،ہاں یہ اور بات ہے کہ جب بحیری راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتو آپ کو پہچان لیا کیونکہ آپ کے اوصاف اسکے پاس (کتابوں میں ) موجود تھے جسکی وجہ سے آپ کے اہل (ابو طالب کو)اسکی خبر دی اور انھیں حکم دیا کہ ان کی حفاظت یہود سے کی جاۓ،واضح رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو بحیری سے کچھ سیکھا اور نہ ہی اسکے علاوہ کسی اورسے بھی کچھ سیکھا ،چنانچہ اللہ تعالی نے  قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے دفاع کرتے ہوۓ ان لوگوں پر رد کیا ہے جن کا یہ گمان ہے کہ آپ کو انسان نے تعلیم دی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے (ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتاہے اسکی زبان جسکی طرف یہ نسبت کررہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے ۔(سورہ نحل آیت 103)

مذکورہ آیت میں ان لوگوں کی تکذیب کی گئی ہے کیونکہ انھوں نے جس زبان کے سیکھنے کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے وہ عجمی غیر عربی ہے جو فصاحت سے عاری ہے اور قرآن عربی ہے جووضاحت وبیان میں اپنی مثال آپ ہے ۔

لہذا وہ شخص جسکی تاریخ ایسی ہو کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ قرآن جیسی سراپا معجز کتاب اپنے طرف سے لا سکے ،کیونکہ قرآن اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوتا تو اسکا موضوع عربی معاشرہ کی طرز حیات(گاؤں، دیہات ) پر مشتمل ہوتا نیز اسوقت میں ایک عربی انسان کے یہاں جو چیزیں باعث اہتمام ہوتی تھیں جیسے بکری،اونٹ،گھوڑے ،عربی قبیلے ،نیز بارش کی کمی ،اور ان کے  علاوہ وہ دیگر انسانی اقتصادی اور سیاسی مسائل جو اس تاریخی دور میں پاۓ جاتے تھے ۔

لیکن قرآن پڑھنے والا ان کے علاوہ (چیزیں ) پاتا ہے ۔

وہ ایسی کتاب پاتاہے جو فصاحت وبیان،اور زندگی کے تمام گوشوں کی شمولیت میں سراپا معجزہ ہے جو انسان کی زندگی  میں خاص اور عام طورپر ایسے راستہ کی رہنمائی کرتا ہے جو نہایت ہی سیدھا ہے ،خاندانی ومعاشرتی نصا‌‎ئح ،نیز سیاسی واقتصادی تنظیمات،اور علوم طبیعی ،طبی،اور فلکی نیز تاریخی اور جغرافیائی علوم سے بھراہوا ہے ۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود انہیں نہایت ہی عمدہ اور واضح طور پر بلاغت کے ساتھ ،آسان اسلوب میں پیش کرتا ہے جسے جتنا بھی پڑھا جاۓ اکتاہٹ نہیں ہوتا ۔

تشریعی لحاظ سے بھی اپنی مثال آپ ہے جو انسان کے تمام ظروف کے  ساتھ چاہے اسکا تعلق کسی جگہ سے ہو اور کسی بھی وقت سے ہو مناسب ہوتی ہے  نیز اسکی زندگی میں تغیرات و ترقی کے باوجود بھی موافق ہوتی ہے ۔

ان تمام (حالتوں ) کے باوجود بھی وہ ٹکراؤ اور اختلاف سے محفوظ ہے نیز اسکی بعض (آیتیں)بعض کی تصدیق کرتی ہیں ۔

اور تعجب خیز بات یہ ہیکہ یہ تمام امتیازی چیزیں اور خاصیت قرآن کریم کو نبی کریم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی  پوری23 سالہ دور رسالت میں شامل رہیں جسے قرآن کریم کے سب سے بڑے اعجاز میں شمار کیا جاتاہے ،جسکا نزول لوگوں کی زندگی میں جو واقعات رونما ہوتے تھے اس اعتبار سے ہوتاتھا، تو اگر یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوتا تو وہ ایک کتاب لاۓ ہوتے جسکی ہر وقت وہ ان پر تلاوت کرتے اور یہ قرآن کی شان کے خلاف ہے جس کے نزول میں 23 سال کا وقت لگا۔

قرآن کریم میں جو چیلنج آیا قریش اور ان کے ساتھ عربوں کو بلکہ تمام لوگوں کو جو کسی بھی ‌زمانے میں ہوں کہ وہ قرآن کے مثل یا اسجیسی بعض (آیتیں) لے آئیں اسنے قرآن کریم کے اعجاز میں اور زیادتی پیدا کردی۔

چنانچہ تاریخ کی چودہ صدیاں گذر گئیں لیکن کوئی (مائی کا لال ایسا نہیں پیداہوا) جو قرآن کریم کے مشابہ ایک آیت بھی لاسکے ۔اور یہ چیلنج تمام لوگوں کے لۓ اپنی جگہ پر باقی ہے اور ہرگز ہرگز کوئی تا قیامت نہیں لاسکتا ہے ۔

ترجمہ:کہہ دیجیۓ کہ اگر تمام انسان اور کل جنات ملکر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اسکے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ (آپس میں)ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں ۔(سورۃ الاسراء آیت نمبر 88)

بلا شبہ قرآن سے محبت ،اسپر ایمان لانا نیز اس سے متاثر ہونا صرف اور صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ چیز آپ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی مستمر ہے چنانچہ لوگ قرآن کو قبول کررہے ہیں اور تمام امتوں میں سے لوگ اسپر ایمان بھی رکھتے ہیں حتی کہ غیر عربی لوگ بھی ،چنانچہ ان میں سے مسلمان عرب سے زیادہ ہیں ۔

توکیا یہ بات معقول ہوسکتی ہے کہ ایک کتاب جو ایک انسان کی طرف سے ہو اسے تمام امتوں کے طرف سے ہمیشہ کے لۓ یہ درجہ قبول مل سکے ۔

بلاشبہ دلائل و براہین یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے نہیں ہے (ان کا خود ساختہ کلام نہیں ہے ) ان دلائل میں سے بعض پیش خدمت ہیں ۔

 

1-اگر قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے ہوتا تو کیسے ایسی آیات لاتے جسمیں انہیں دھمکی اور وعید سنائی گئ ہے اگر انھوں نے قرآن میں کچھ بھی کذب بیانی کی ۔

 

ارشاد باری تعالی ہے (اوراگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا تو البتہ ہم اسکا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر اسکی شہ رگ کاٹ دیتے پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا ۔(سورۃ الحاقۃ آیت نمبر 44-47)

ارشاد باری تعالی ہے (اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان اتارا ہے ،اگر آپ نے ان کی خواہشوں کی پیروی کرلی اسکے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو اللہ کے عذاب سے آپکو کوئی حمایتی ملیگا اور نہ بچانے والا ۔(سورۃالرعد آیت نمبر 37)

پس اگر یہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے ہوتا تو کیا ممکن تھا کہ ان جیسی آیتوں کو قرآن میں چھوڑ دیتے ۔

چنانچہ اس سخت وعید کو دیکھۓ۔

 

ارشاد باری تعالی :یہ لوگ اس وحی سے جو ہم نے آپ پر اتاری ہے بہکانا چاہتے کہ آپ اسکے سوا کچھ اور ہی ہمارے نام سے گھڑ گھڑا لیں،تب تو آپکو یہ لوگ اپنا ولی دوست بنا لیتے ،اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ انکی طرف قدرے قلیل مائل ہی ہوجاتے پھر تو ہم بھی آپکو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا ،پھر تو آپ اپنے لۓ ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار بھی نہ پاتے ۔(سورۃ الاسراء آیت 73-75)

پس اگر یہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ ان جیسی آیتوں کو قرآن میں چھوڑ دیتے ۔

بلکہ ایسی آیات وارد ہوئی ہیں جسیمں آپ کو لوگوں تک تبلیغ میں کوتاہی سے تنبیہ کی گئی ہے ۔

ارشادباری تعالی :اے رسول جوکچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیۓ ،اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہ کی اور آپکو اللہ تعالی لوگوں سے بچا لیگا ،بیشک اللہ تعالی کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔(سورۃ المائدہ آیت نمبر 67)

آپ کی کیا راۓ ہے اگر یہ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ ان جیسی آیتوں کو قرآن میں چھوڑ دیتے ۔

اور اگر یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ ان آیتوں کو چھوڑتے جسمیں  ان کے لۓ سرزنش ہے ۔

ارشاد باری تعالی :وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑلیا (صرف اسلۓ) کہ اسکے پاس ایک نابینا آیا تجھے کیا خبر شاید وہ سنور جاتا یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائدہ پہنچاتی ۔( سورۃ عبس آیت نمبر 1-4)

قرآن کریم میں اس خبر کا ذکر موجود ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (آپکی شادی کا قصہ زینب بنت جحش سے )اپنے نفس میں چھپاۓ ہوۓ تھے ۔

ارشاد باری تعالی :(یاد کرو)جبکہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تونے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپاۓ ہوۓ تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا حالانکہ اللہ تعالی اسکا زیادہ حقدار تھا کہ تو اس سے ڈرے ،پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دیدیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جبکہ وہ اپنی غرض ان سے پوری کرلیں ،اللہ کا (یہ)حکم تو ہوکر ہی رہنے والا تھا ۔(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 37)

چنانچہ قرآن کریم کی قوت بیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہام کی تحدید ،اس دین کی اہمیت جس کی تبلیغ کے لۓ آپ بھیجے گۓ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان ہونے کی تاکید،نیز یہ کہ وہ کسی مخلوق کے لۓ کسی بھی طرح کے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں اور یہ کہ وہ اپنی دعوت سے کسی بھی قسم کے دنیاوی مال ومتاع ،لوگوں کے مابین جاہ ومقام اور سلطنت وبادشاہت کے خواہاں نہیں یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (گھڑا ہوا کتاب) نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا کلام ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ،تو آپکو چاہیۓ کہ میرے ساتھ غور کریں 1-قرآن کریم کا اس رسول کو خطاب کرنا کہ وہ اپنے مہام کی تحدید وتعیین لوگوں کے لۓ کردیں اور انھیں اپنے انسان ہونے کی بھی معرفت کرائیں ۔

ترجمہ :آپ کہہ دیجۓ کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ،میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اسکا اتباع کرتا ہوں ،آپ کہہ دیجۓ کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتا ہے سو کیا تم غور نہیں کرتے ۔(سورۃالانعام آیت نمبر 50)

ترجمہ :آپ فرمادیجۓ کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لۓ کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا ،مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھکو نہ پہنچتا،میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں ۔(سورۃ الاعراف آیت نمبر 188)

ترجمہ : آپ کہہ دیجۓ کہ اے لوگو میں تم سب کیطرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں جسکی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمینوں میں ہے اسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اسکے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالی پر اور اسکے احکام پر ایمان رکھتے ہیں سو ان کی اتباع کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ۔(سورۃالاعراف آیت نمبر 158)

ترجمہ : آپ کہہ دیجۓ کہ اے لوگو اگر تم میرے دین کیطرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ،لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے اور مجھکو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں ۔( سورۃ یونس آیت نمبر 104)

 

2- قرآن کریم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اسکی اتباع وپیروی کا حکم دیا ۔

ترجمہ : اور آپ اسکی اتباع کرتے رہیۓ جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے اور صبر کیجۓ یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں سب سے اچھا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 109)

ترجمہ : پھر ہم نے آپکو دین کی (ظاہر ) راہ پر قائم کردیا سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں ۔(سورۃ الجاثیۃ آیت نمبر 18)

3- قرآن کریم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دین پر جمے رہنے کا حکم دیا جسکی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں ۔

ترجمہ : پس آپ جمے رہیۓ جیسا کہ آپکو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کرچکے ہیں ،خبردار تم حد سے نہ بڑھنا ،اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے والا ہے ۔(سورۃ ہود آیت نمبر 112)

ترجمہ :پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اسی پر مضبوطی سے جم جائیں اور انکی خواہشوں پر نہ چلیں اور کہہ دیں کہ اللہ تعالی نے جتنی کتابیں نازل کی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں ، ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے ہمارے اعمال ہمارے لۓ ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لۓ ہیں ،ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں ،اللہ تعالی ہم سب کو جمع کرےگااور اسی کی طرف لوٹنا ہے (سورۃ الشوری آیت نمبر 15)

4- حکم الہی کی معصیت و نافرمانی پر قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرایا ہے ۔

ترجمہ :آپ کہیۓ کہ کیا اللہ کے سوا،جو کہ آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے اور جو کہ کھانے کو دیتا ہے اوراسکو کوئی کھانے کو نہیں دیتا ،اور کسی کو معبود قرار دوں ،آپ فرمادیجۓ کہ مجھکو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں اور تو مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا ،آپ کہہ دیجۓ کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔(سورۃ الانعام آیت نمبر 14-15)

5- قرآن کریم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اتباع کرنے والے مومنوں کو ساتھ رکھنے کی اور اس (راہ میں ) صبر کی تلقین وتوجیہ کی ۔

ترجمہ : اور اپنے آپکو انھیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح وشام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں)خبردار تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا،دیکھ اسکا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جسکا کام حد سے گزر چکا ہے ۔(سورۃ الکھف آیت نمبر 28)

یہ فرامین اور توجیھات جو بار بار قرآن کریم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لۓ وارد ہوۓ ہیں یہی سب سے بڑی دلیل ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ۔

نۓ اکتشافات اور تحقیقات جن کا ظہور قرآن سے ہوا وہ بھی اس بات پر شاہد ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ عقلی دلیلوں میں سے ہے ۔

چنانچہ انسان ان اعتقادات اور علوم کے بارے میں ہم کلام ہوتا ہے جو اسوقت میں معروف ومشہور تھے اور ان تمام چیزوں کو ایک سرے سے ذکر کرتا ہے جسے اپنے وقت میں پایا ہو چاہے اسکی بات دائرۂ عقل میں آۓ یا نہ آۓ اور یہی وجہ ہے کہ ہم کوئی ایسی کتاب نہیں پاتے ہیں کہ جس پر ایک زمانہ گزر گیا ہو الا یہ وہ دیگر تمام میدان میں نئے اکتشافات اور تحقیق کے پیش نظر تمام ناحیوں سے غلطیوں اور خامیوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے ۔

لیکن قرآن کا مسئلہ اس قاعدہ کلیہ سے پورے طورپر مختلف ہے ۔

لہذا یہ قرآن برحق اور سراپا سچ ہے ہر اس چیز میں جو اسنے باقی صدیوں کے بارے میں خبر دی ہے اور صدیاں اور ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اسیں کسی بھی قسم کی تغیر اور تبدیلی رونما نہ ہوسکی تو یہ فی نفسہ واضح دلیل ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ہر چیز کا خالق ہے اور تمام حقائق سے اس کے نہائی اور حقیقی صورت سے واقف ہے نیز اس کے علم ومعرفت سے کوئی بھی وقت ،جگہ اور حالت اوجھل نہیں

معلوم یہ ہوا کہ اگر یہ کلام کسی انسان کی طرف سے صادر ہوتا جسکی بینائی اور علم محدود ہو تو اسے وقت مختلف ‏عہد میں باطل کرچکا ہوتا جیسا کہ ہر انسانی کلام کے لۓ مستقبل میں پیش آتا ہے ۔

چنانچہ وہاں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جس کے متعلق جزئی معرفت پہلے کے لوگ رکھتے تھے اور ان کی معرفت یہ بہت ہی ناقص تھی بہ نسبت اس معرفت کے جو آج انسان کو نئی ایجادات کے فضل سے عطا کی گئی ہے ۔

اسلۓ قرآن کے اعجاز میں یہ چیز حاصل ہے کہ اسنے ایسے علم کے زبان میں بات کی قبل اس کے کہ اسکا ظہور ہو ،اور ایسے ہی اسنے ایسے کلمات اور اسلوب وتعبیرات  استعمال کۓ جسے پہلے لوگوں کے ذوق عجوبہ نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کی معرفت جسے جدید دور کے ایجادات نے گھیر رکھا ہو ۔

اسپر چند مثالیں (ملاحظہ فرمائیں )

ا- ترجمہ : اللہ وہ ہے جسنے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کر رکھا ہے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ۔(سورۃ الرعد آیت نمبر 2)

یہ آیت اس چیز کے مطابق ہے جسے انسان ماضی میں دیکھتاتھا کیونکہ وہ ایک بڑی کائنات کو دیکھتاتھا جو فضاء میں بذات خود سورج،چاند،اور ستاروں کی شکل میں قائم ہوتا تھا لیکن اس کے لۓ نہ تو وہ کوئی ستون اور نہ ہی کوئی کھمبا دیکھتا تھا ،موجودہ وقت میں انسان اس آیت میں اپنے اس مشاہدہ کی تفسیر پاتاہے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ اجرام سماویہ فضاء میں بغیر کسی ستون کے قائم ہیں ہاں وہاں ایسے ستون ہوتے ہیں جو دیکھے نہیں جاسکتے جو جاذبیت کی صورت میں ہوتے ہیں اور ان اجرام کو اپنے محدود مقامات میں باقی رہنے پر مدد کرتے ہیں ۔

ب - قرآن میں سورج وچاند کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا (اورسب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں ۔(سورۃ یاسین آیت نمبر 40)

اور چونکہ انسان ماضی میں اس چیز کا مشاہدہ کرتا تھا کہ ستارے حرکت کرتے ہیں اورایک محدد وقت کے بعد اپنی جگہ سے دور ہوجاتے ہیں اسلۓ قرآن کریم کی یہ تعبیر وانداز ان کے لۓ تعجب خیز اور حیران کن نہیں تھا،لیکن نئی تحقیقات نے ان تعبیرات کو ایک نیا لباس پہنا دیا چنانچہ اجرام سماویہ کے لۓ جو لطیف فضاء میں گردش کرتے ہیں ان کے لۓ تیرنے کی تعبیر سے بہتر اور دقیق تعبیرہوہی نہیں سکتی ہے (جبکہ اسکا ذکر قرآن نے کیا ہے ۔

ج- قرآن کریم میں اللہ تعالی نے رات اوردن کے متعلق ارشاد فر مایا (وہ رات سے دن  کوایسے طور پرچھپا دیتا ہے کہ وہ رات دن کوجلدی سے آلیتی ہے ۔(سورۃ الاعراف آیت نمبر 54)

یہ آیت کریمہ قدیم انسان کے لۓ دن کے بعد درات کے آنے کا  راز کیا ہے اسکی تشریح کرتی ہے لیکن وہ ایسی عمدہ اشارہ کومحتوی ہے جو زمین کی گردش پر (دلالت) کرتی ہے اور یہی وہ گردش ہے جو ہماری جدید معلومات کے مطابق رات ودن کے آنے کا سبب ہے ۔

چنانچہ انھیں مشاہدات کے درمیان اس روسی فضائیہ (جاجارین )کا مشاہدہ ہے جو زمین کے متعلق فضاء میں گردش لگانے کے بعد پہنچ سکا ۔

اسنے تاریکی اور روشنی کو زمین کی سطح پر ایک دوسرے کے آگے پیچھے آتے ہوۓ دیکھااور یہ اسوجہ سے وہ سورج کے اردگرد دائری طور پر وہ گردش کرتے ہیں ،چنانچہ اس قبیل سے بہت سے بیانات ہیں جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے ۔

قرآن کے اعجاز میں سے یہ بھی ایک ہے جسکا ذکر قرآن میں ہے (ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اسکی پور پور تک درست کردیں ) سورۃ القیامۃ آیت نمبر4)

کیوں انگلی کے پور کا ذکر خاص طور پر کیا ، اسمیں کیا خاصیت ہے ،اسمیں انگلیوں کی چھاپ ہے اوریہ ایسی عجیب معجزہ الہیہ ہے کے کتنے (بے شمار لوگ)اس روۓ زمین پر بستے ہیں لیکن اسمیں کوئی ایسے دوانسان نہیں ہیں جن کے انگلی کی چھاپ ایک دوسرے سے ملتی ہو ۔

یہ ایسی واضح اور عجیب چیز ہے لیکن اسکی معرفت ابھی (عہد)قریب میں ہوئی،زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے کسی نے نہیں جانا اور نہ ہی ان دس صدیوں میں جو عہد رسول سے ملی ہوئی تھیں ۔

لہذا یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے حاصل کیا ،اور قرآن اللہ کا کلام ہے ،اور اس جیسی قرآن میں سینکڑوں مثالیں ہیں ،چنانچہ برابر ہم روزانہ ایسے شخص کو پاتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک پر متنبہ ہوتاہے ،اور (یہی وجہ ہے )کہ جب بھی قرآن کو پڑھنے والا اسے پڑھتاہے اس کے اعجاز میں سے کچھ ایسی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں جو پہلے لوگوں کو نہ مل سکیں اسلۓ کہ اسکے عجائبات ختم نہیں ہوسکتے ہیں ۔

موضوع کے شروع میں جو بات ذکر کی گئی کہ مسلمان قرآن کریم کے اعجاز کے تمام جوانب کا احاطہ نہ کرسکے بلکہ ان میں سے بعض اجزاء کی معرفت حاصل کرسکے یہ اس بات کی دلیل ہیکہ قرآن اللہ کا کلام ہے ۔اب میں آپ کے ساتھ دوسری قسم کے دلائل کی طرف منتقل ہورہا ہوں ۔

1-بعض وہ امور جو مستقبل میں ہونے والے ہیں جسکی خبر قرآن نے دی ہے ۔

ا- قرآن کریم نے اس بات کی خبردی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب قطعی طور پر اسلام قبول نہیں کریگا اور اسکی موت کفر پرہوگی ،جب کہ یہ شخص نزول وحی کے وقت باحیات تھا اور ان آیات کو بھی اسنے سنا جو اسکے بارے میں نازل ہوئیں لیکن اسکے باوجود بھی اسنے اسلام قبول نہیں کیا اور نہ ہی اسنے یہ دعوی کیا کہ وہ مومن ہے تاکہ قرآن کی صدق وسچائی میں طنز وتشنیع سے کام لے ۔

ب – دوسری دلیل یہ کہ قرآن کریم کا اس بات کی خبر دینا کہ روم فرس سے شکست کھانے کے بعد (ایک دن ایسا آئیگا)کہ وہ اس فرس پر غالب ہوگا۔اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین معارضین مکہ کے اعراض کے باوجود بھی اس پر باقی تھے کہ ایسا ضرور ہوگا کیونکہ وہ صدق نبوت پر ایمان رکھتے تھے ،پھر وہی چیز سامنے آئی جس کی قرآن نے خبر دی کہ روم کو فرس پر غلبہ نصیب ہوا اور اسطرح سے قرآن کی سچائی بھی ظاہر ہوئی۔

2-پچھلے قوموں کی خبر اور خاص طور سے وہ زمانہ اور وقت جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں گزارا تھاجو چیلنج سے بھری ہوئی تھی چنانچہ اعجاز قرآن کی شکل میں نمودار ہوئی(اور اس بات کو ثابت کی ) کہ وہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے ،اور چونکہ یہود مدینہ میں رہتے تھےاور وہ اہل کتاب تھے اور قرآن کریم  نے یہود کی تردید کی ہے بعض ان چیزوں میں جو انھوں نے تحریف کی ہے جیسے ان اہل کتاب کا یہ دعوی کہ عیسی مسیح کو پھانسی دے دی گئی،اور بعض کا یہ دعوی کرنا کہ وہ خود اللہ ہیں ،یا یہ کہنا کہ وہ جادوگر تھے نیز ان کا سلیمان علیہ السلام کے بارے میں طنز وتشنیع کرنا اور یہ کہنا کہ وہ جادوگر تھے ۔

ایسے ہی قرآن کریم کا ان کیلۓ انبیاء کرام کے قصوں کا بیان کرنا جن پر اللہ کی رحمیتیں نازل ہوں اور یہود یہ قرآن کو سنتے تھے اور اس چیز کو بھی سنتے تھے جسے ان کے نبی موسی علیہ السلام کے بارے میں قرآن نے بیان کیا لیکن  ان میں سے کسی سے بھی یہ چیز نہیں جاتی ہے کہ قرآن میں جو کچھ اس سلسلے میں وارد ہے اس کی تکذیب کی ہویا اسپر اعتراض کیا ہو ۔

3-قرآن کے اعجاز میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے معانی یہ کا مل ہیں ،احکام کا متفق ہونا نیز ان میں سے بعض کا بعض کی تصدیق کرنا ،پس اگر یہ قرآن غیر اللہ کے طرف سے ہوتا تو اسکے احکام میں اختلاف پایا جاتا ،اس کے معانی ومفاہیم میں تضاد پایا جاتا،اور بعض کا فساد بعض سے ظاہر ہوتا ۔

ترجمہ :کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ،اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کے طرف سے ہوتا تو یقینا اسمیں بہت کچھ اختلاف پاتے ۔(سورۃ النساء آیت نمبر 82)

4-اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کسی بھی قسم کی تبدیل وتحریف اور چینجنگ سے اسکی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے آج ہم پارہے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے پاس قرآن کریم کا صرف ایک ہی نسخہ ہے تو وہ قرآن جسے ایک عربی مسلمان پڑھتا ہے وہی قرآن ایک ہندی یا چینی یا امریکی اور یورپی مسلمان بھی پڑھتا ہے ۔

5-قرآن کریم کا آسانی سے حفظ کرلینا حتی کہ وہ انسان بھی جو عربی زبان نہ بول سکتا ہو ۔

عرب کو اسکی طرف متوجہ کرنے میں قرآن کا بڑا اثر تھا کیونکہ یہی وہ عرب تھے جو فصاحت وبلاغت اور بیان میں شہرت یافتہ تھے اور ایسا نہیں تھا کہ جیسا بھی کلام ہو وہ اسکی طرف انہیں انکی توجہ مرکوز کرسکے بلکہ ان کی حالت یہ ہوگئی کہ انھیں قرآن کریم کی عبارتوں کے سننے کے لۓ خاموشی ،اس کے بارے میں سوال کرنے اور آپس میں اس کے پڑھنے پڑھانے کا ثبوت دینا پڑا۔

اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا جس وقت کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت پر سختی  بام عروج پرتاور یہ وہ نئی خوبی ہے جو قرآن کریم کے قوت اعجاز پر دلالت کرتی ہے ۔

قریش کے تین لیڈروں  (ابو سفیان بن حرب،ابوجہل بن ھشام ،اخنس بن شریق )کا قصہ اس پر سب سے بہتر اور اچھی دلیل ہے ۔

قصہ یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ان لیڈروں میں سے ہر ایک نے قرآن کریم کی جاذبیت کو اپنے اندر پایاتو اس کے سننے کی انہیں رغبت ہوئی لہذا وہ رات کی تاریکی میں چھپتے چھپاتے نکلے تاکہ انہیں کوئی دیکھ نہ سکے چنانچہ ان میں سے ہر ایک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دعوت کے خلاف لیڈری چاہی ۔

اس کا حال لوگوں کے سامنے کیا ہوگا جب وہ یہ جان لیں گے کہ وہ قرآن کریم کو غور سے سنتا ہے ۔

پھر ان میں سے ہر ایک نےاللہ کے رسول کے گھر کا رخ کیا تاکہ وہ آپ کی قراءت کو سن سکے جب آپ نماز پڑھ رہے ہوں چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ  قرآن کریم کو سننے کی لۓ بیٹھ گیا ،ان میں سے کسی کو  اپنے  دوسرے ساتھی کے بارے میں کوئی واقفیت نہیں تھی کہ وہ کیا کررہا ہے یہاں تک کہ انھوں نے قرآن کریم سنتے ہوۓ رات گزار دی، جب فجر کا وقت قریب ہوا تو وہ وہاں سے ہٹے اور سب کی ملاقات راستے میں ہوگئی اور ہر ایک کو اس بات سے واقفیت ہوئی کہ اسکے ساتھی نے کیاکیا۔

ایک دوسرے کو آپس میں ملامت کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ آئندہ ایسا نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں بعض بیوقوفوں نے دیکھ لیا تو ان کے دلوں میں (بدگمانی) آجائیگی پھر وہ سب واپس چلے گۓ۔

اے کاش کہ معاملہ یہاں پر رک گیا ہوتا ۔

قرآن کا تاثیر بہت ہی عجیب تھا کیونکہ وہی چیز ان سے آنے والی رات میں دوبارہ ہوئی جو اس سے پہلے ہوئی تھی اور ان میں سے ہر ایک کا یہی خیال تھا کہ ان کے ساتھ کوئی اور نہیں ہے ،پھر دوسری بار بھی قرآن سننے کے بعد ایک دوسرے سے ان کی ملاقات ہوتی ہے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی سرزنش کرتے ہیں اور پختہ ارادہ کرتے ہیں کہ اب دوبارہ نہیں لوٹیں گے ،پھر بھی قوت قرآن ان کی ان وصیتوں پر غالب ہوجاتی ہے جسکی وہ آپس میں وصیت کرچکے تھے ۔

اور وہی چیز تیسری بار بھی پیش آتی ہے ۔

اسکے بعد انھوں نے مناسب سمجھا کہ ایک دوسرے سے دوبارہ واپس نہ لوٹنے کا عہدوپیمان کریں پھر بکھر گۓ اور جدا ہوگۓ ،معلوم ہوا کہ اگر قرآن معجزہ نہ ہوتا تو اسکے مخالفین حیران نہ ہوتے او نہ ہی اسکے سننے کے لۓ طرح طرح کے راستے اپناتے ۔

اور معاملہ صرف اسی پر نہ رکا بلکہ اخنس بن شریک اپنے اور دونوں ساتھیوں سے پوچھتاتھا کہ ان دونوں کی اس (قرآن ) کے بارے میں کیا راۓ ہیں جو انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔

تو ابوجہل نے کہا جو تونے سنا ہم اور بنی عبد مناف (اسکی مراد قبیلہ قریش میں اللہ کے رسول کا قبیلہ تھا )  شرف کے سلسلے میں نزاع پیداہوگیا ،،انھوں نے کھلایا ہم نے بھی کھلایا ،انھوں نے سوار کیا ہم نے بھی سوار کیا انھوں نے دیا تو ہو نے بھی دیا یہاں تک کہ قافلہ کے قریب ہوۓ تو گروی گھوڑے کے مثل ہوگۓ ،انھوں نے کہا کہ نبی ہم میں سے ہے جسپر وجی آسمان سے نازل ہوتی ہے تو ہم اسے کب پاسکتے ہیں۔

اللہ کی قسم ہم اسپر ایمان کبھی نہیں لائیں گے اور نہ ہی اسکی تصدیق کریں گے ۔

چنانچہ جب مسلمانوں کی عدد میں اضافہ ہونے لگا تو دعوت اسلام کا ایک بڑا مخالف قریش کے مطالبہ پر اٹھ کھڑا ہوا کہ وہ کسی بھی طرح سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قانع کرنے کی کوشش کرے کہ وہ دعوت کا کام چھوڑ دیں اس بنیاد پر کہ وہ جتنا بھی اس کےلۓ مال ،بادشاہت ،عورت  چاہیں انھیں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو) دیا جائیگا،چنانچہ سرداران قریش میں سے ایک شخص جسے عتبہ بن ربیعہ کہا جاتا تھا اٹھ کھڑا ہوا اور اللہ کے رسول کے سامنے اسنے یہ چیزیں پیش کیں ۔

تو اس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اے ابو الولید کیا تم (اپنی بات سے ) فارغ ہوگۓ ۔

 

اسنے کہا :جی ہاں ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ اب تم مجھ سے سنو اور اسپر قرآن کریم کے آیتوں کی تلاوت کرنے لگے یہاں تک کہ عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے چپ چاپ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ فارغ ہوگۓ ۔

اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اے ابو الولید تمہیں جو کچھ سننا تھا سن چکے اب تم جانوتمہارا کام جانے۔

چنانچہ عتبہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا ،اور جب انھوں نے اسکو دیکھا تو بول اٹھے کہ عتبہ اس چہرے سے نہیں واپس آرہا ہے جس چہرے سے وہ گیا تھا (معاملہ گمبھیرہے )

 

قرآن کریم کا اسپر عجیب اثر ہوا اور اسکا اثر اس کے جواب سے ظاہر ہوا جب انھوں نے اس سے سوال کیا کہ تمہارے پیچھے کی کیاخبر  ہے ؟

اس نے کہا میرے پیچھے کی خبریہ ہیکہ میں نے ایسی بات (قرآن )سنی ہے جسے میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی ،اللہ کی قسم وہ نہ تو شعر ہے نہ جادو اور نہ ہی کہانت ،اےجماعت قریش تم میری بات مان لو اور اس معاملے کو مجھپر چھوڑدو(میری راۓ یہ ہیکہ )اس شخص کو اسکے حال پرچھوڑ کر الگ تھلگ بیٹھ رہو ،خدا کی قسم میں نے اسکا جو قول سنا ہے اس سے کوئی زبردست واقعہ رونما ہوکر رہے گا ،پھر اگر اس شخص کو عرب نے مارڈالا تو تمہارا کام دوسروں کے ذریعہ انجام پاجائیگا اور اگر یہ شخص عرب پر غالب آگیا تو اسکی بادشاہت تمہاری بادشاہت اور اسکی عزت تمہاری عزت ہوگی اور اسکا وجود تمہارے لۓ سب سے بڑھکر سعادت کا باعث ہوگا ،لوگوں نے کہا ابوالولید خدا کی قسم تم پر بھی اسکی زبان کا جادو چل گیا ،عتبہ نے کہا : اس شخص کے بارے میں میری راۓ  یہی ہے اب تمہیں جو ٹھیک معلوم ہو کرو۔

قرآن کے قوت تاثیر کے لۓ انھیں دو دلیلوں پر اکتفا کرتا ہوں جو اس بات پر بھی دلیل ہیں کہ قرآن معجزہ ہے اور اللہ کے طرف سے (نازل شدہ ) ہے ۔

معلوم ہوا کہ قرآن متعدد وجوہات کی بنیاد پر واضح نشانی اور معجزہ ہے جیسا کہ ہم نے ان میں سے بعض کا ذکر کیا چنانچہ وہ سراپا معجز ہے  لفظی ،نظم ونسق ،بلاغہ کے ناحیہ سے بھی جو لفظ کی دلالت معنی پر ہوتی ہے اور اسکے معانی کے اعتبار سے بھی جسکی خبر اللہ کے اسماء وصفات ،اس کے فرشتوں وغیرہ کے بارے میں دی گئی ہے اور اس کے ان معانی کے اعتبار سے بھی جسکا تعلق ماضی اور مستقبل کے غیب سے ہے اور اس ناحیہ سے بھی جسکا تعلق ان اخبار سے ہے جو معاد(قیامت کے دن )رونما ہوں گی اور اس ناحیہ سے بھی کہ جو اس تعلق سے یقینی اور قیاسی وعقلی دلیلیں بیان کی گئیں ہیں جو مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ۔

ارشاد باری تعالی ہے ۔ ترجمہ :ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لۓہر طرح سے تمام مثالیں بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے ہیں ۔(سورۃالاسراء آیت نمبر 89)

قرآن کا حقیقی اعجاز یہ ہیکہ جس شریعت کو لیکر قرآن آئی ہے وہ کامل ہے اور اسنے  سعادت مند زندگی کی ذمہ داری لی ہے ہر اس انسان کے لۓ جو اس زمین پر زندگی گزارتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کی تفسیر (چند چیزوں سے ہوتی ہے ) جیسے لوگوں کا اسے قبول کرنا اور ان کا اس سے محبت کرنا اورانکا یہ ایمان رکھنا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ار یہ ہرزمان ومکان کے لوگوں کےلۓ صالح اور درست ہے ۔چنانچہ قرآن ایسی شریعت لیکر آئی جو اس ناحیہ سے امتیازی حیثیت رکھتی ہے جسکے بارے میں ہر انسان سوچتا رہتاہے ۔

اور یہی وہ خوبیاں اور اچھائیاں ہیں جسکی تفسیر دین اسلام میں لوگوں کے داخل ہونے سے ہوتی ہیں اور ان کا ایمان رکھنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی اور رسول ہیں اور قرآن اللہ کا کلام ہے جسے اللہ کے رسول پر نازل کیا گیا ہے ،چنانچہ عربی مسلمان یاغیر عرب مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موت کے بعد (ان کی عدد میں ) زیادتی ہوتی گئی اور برابر یہ زیادتی جاری ہے اور یہ اسوجہ سے کہ انہوں نے عدل وانصاف اور رحمت اور اس آسانی کا مشاہدہ کیا جسے شریعت اسلامیہ لیکر آئی نیز انھوں نے قرآن کریم کا اچھا اثر مسلمانوں کی زندگی میں پایا۔

اور اس سے بڑی چیز کہ قرآن جسکا نزول اسوجہ سے ہوا کہ لوگوں کو اللہ واحد کی عبادت کی طرف رہنمائی کی جاۓ جو خالق ومالک اور مدبر ہے ۔

اور یہی وہ چیز ہے جس کے لۓ اللہ تعالی نے رسولوں کو بھیجا اور کتابوں کو نازل فرمایا۔

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :

 

ترجمہ :اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لیکر رسول آگیا ہے پس تم ایمان لے آؤتاکہ تمہارے لۓ بہتری ہو اور اگر تم کافر ہوگۓ تو اللہ ہی کے لۓ ہر وہ چیز ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور اللہ دانا اور حکمت والا ہے ۔(سورۃ النساء آیت نمبر 170)

ترجمہ :اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں جو راہ راست پر آجاۓ وہ اپنے نفع کے لۓ راہ راست پر آئیگا اور جو بہک جاۓ تو کہہ دیجیۓ کہ میں تو صرف ہوشیار کرنے والوں میں سے ہوں ۔(سورۃالنمل آیت نمبر 92)